ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کولگام ہلاکتوں کے خلاف تاریخی لال چوک میں احتجاجی دھرنا ناکام

کولگام ہلاکتوں کے خلاف تاریخی لال چوک میں احتجاجی دھرنا ناکام

Wed, 24 Oct 2018 11:43:04    S.O. News Service

سری نگر،24؍اکتوبر (ایس او نیوز؍یو ا ین آئی) کشمیر انتظامیہ نے منگل کے روز گرمائی دارالحکومت سری نگر کا قلب کہلائے جانے والے تاریخی لال چوک کو چاروں اطراف سے سیل کرکے جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں پیش آئی شہری ہلاکتوں کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت کے احتجاجی دھرنے کو ناکام بنادیا۔ سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کولگام ہلاکتوں کے خلاف تاریخی لال چوک میں پرامن احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔

ریاستی پولیس اور سینٹرل پیراملٹری فورسز نے منگل کی صبح تاریخی لال چوک کی طرف جانے والی تمام سڑکوں اور گلی کوچوں کو خاردار تار سے سیل کیا ۔ امیرا کدل، ککر بازار، کورٹ روڑ ، ریگل چوک اور آفتاب مارکیٹ میں سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری کی تعیناتی کے علاوہ ان راستوں کو مکمل طور پر سیل کیا گیا تھا۔ اگرچہ حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ اور جے کے ایل ایف چیئرمین محمد یاسین ملک نے پابندیاں توڑتے ہوئے لال چوک کی طرف جانے کی کوششیں کیں، تاہم سکیورٹی فورسز نے ان کی کوششیں ناکام بناتے ہوئے انہیں حراست میں لیا۔

حریت کانفرنس (ع) کے ایک ترجمان نے کہا کہ میرواعظ نے منگل کی صبح قریب ساڑھے گیارہ بجے اپنی خانہ نظربندی توڑتے ہوئے لال چوک کی طرف پیش قدمی شروع کی، تاہم ان کی رہائش گاہ کے باہر پہلے سے تعینات سکیورٹی فورسز کی بھاری جمعیت نے انہیں حراست میں لیکر پولیس تھانہ نگین منتقل کیا۔

جے کے ایل ایف کے ایک ترجمان نے کہا کہ یاسین ملک اپنی گرفتار کو ٹالنے کے لئے روپوش ہوگئے تھے ۔ تاہم منگل کی صبح مسٹر ملک جوں ہی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تاریخی لال چوک پہنچے تو سکیورٹی فورسز کی بھاری جمعیت نے انہیں پولیس تھانہ کوٹھی باغ منتقل کیا۔بتادیں کہ لارو کولگام میں اتوار کو مسلح تصادم کے مقام پر ایک پراسرار دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 7 عام شہری ہلاک جبکہ قریب 4 درجن دیگر زخمی ہوگئے تھے ۔ پراسرار دھماکے سے قبل مسلح تصادم میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے جیش محمد سے وابستہ 3 مقامی جنگجو مارے گئے تھے ۔ ریاستی پولیس کے مطابق کولگام میں پیش آئی شہری ہلاکتوں کے سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے ۔ دریں اثنا مختلف تجارتی انجمنوں کی جانب سے منگل کو یہاں کولگام ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ مختلف تجارتی انجمنوں کے اتحاد کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینوفیکچرس فیڈریشن سے وابستہ نمائندوں نے لال چوک سے کچھ دوری پر واقع ریگل چوک میں سڑک کے بیچوں بیچ بیٹھ کر کولگام ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا۔ احتجاجی تاجروں کی قیادت فیڈریشن کے صدر حاجی محمد یاسین خان کررہے تھے ۔ دھرنے پر بیٹھنے والے تاجروں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرس اٹھا رکھے تھے ۔ احتجاجی تاجروں کی جانب سے کولگام میں جاں بحق ہوئے شہریوں کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھی گئی۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے بھی کولگام ہلاکتوں کے خلاف ریگل چوک میں احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ اس دوران وادی کشمیر میں بیشتر تعلیمی ادارے منگل کو مسلسل دوسرے دن بھی بند رہے ۔ سری نگر میں متعلقہ ضلع مجسٹریٹ نے تعلیمی ادارے بند رکھنے کے احکامات جاری رکھے تھے ۔ کشمیر یونیورسٹی، اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر میں درس وتدریس کا عمل متاثر رہا۔


Share: